واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان تمام محاذوں پر جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کا اعلان اتوار کی دوپہر تک متوقع ہے۔
امریکی اخبار دی واشنگٹن ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہفتے کی صبح معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو گیا تھا اور اس کا اعلان آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر کیا جا سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق مذاکرات میں شامل فریقین، جن میں محمد باقر قالیباف، جے ڈی وینس، اسٹیو وِٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں، مسودے کی منظوری دے چکے ہیں، جبکہ امن معاہدے کے مسودے کو حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی قیادت کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو گزشتہ 6 ہفتوں سے جاری جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو سکتی ہے، تاہم صدر ٹرمپ اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ نئے حملوں کا امکان بھی برقرار رہ سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اہم اختلافی معاملات، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل اور پابندیوں میں نرمی کے مطالبات شامل ہیں، کس طرح حل کیے جائیں گے۔ دونوں فریقین کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے طریقہ کار پر بھی اتفاق کرنا ہوگا۔
0 تبصرے